ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے انخلا کی دھمکی: یورپی دفاعی پالیسی میں تبدیلی

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے دفاعی بجٹ میں فوری اضافہ نہیں کرتے تو امریکہ اس فوجی اتحاد سے علیحدہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے امریکی افواج کے یورپ سے انخلا کے اشارے نے جرمنی، فرانس اور سپین سمیت دیگر یورپی طاقتوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ نیٹو چیف نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یورپی ممالک اب امریکی دباؤ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یورپی یونین کے اندر 'مشترکہ دفاعی شق' (Mutual Defence Clause) کو نیٹو کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ سپین اور دیگر یورپی ممالک اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ امریکہ پر انحصار کم کر کے اپنی آزادانہ فوجی صلاحیتیں پیدا کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس موقف نے بین الاقوامی نظم و نسق میں ایک غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس سے نہ صرف ٹرانس اٹلانٹک تعلقات بلکہ عالمی تزویراتی توازن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یورپی رہنما اب ایک 'پلان بی' کی تیاری میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی سرحدوں کا دفاع خود کر سکیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس