پاکستان کے معاشی منظرنامے پر خلیجی صورتحال کے اثرات ظاہر

VoS - ISLAMABAD اسٹیٹ بینک کے حالیہ ڈیٹا کے مطابق خلیج میں پائی جانے والی حالیہ سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال پاکستان کی ملکی بانڈ اور ایکویٹی  مارکیٹوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماہرینِ معیشت کا گہرائی سے کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ بین الاقوامی امن معاہدے سے نئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، لیکن بیرونی سرمایہ کاروں کا حقیقی اعتماد بحال کرنے کے لیے خطے میں طویل مدتی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستانی اسٹاک ایکسچینج میں غیر ملکی سرمائے کا انخلا دیکھا گیا ہے کیونکہ بین الاقوامی فنڈز اس وقت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مقامی صنعت کاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک پر انحصار کم کرنے کے لیے فوری طور پر مقامی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے متبادل پالیسیاں وضع کرے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خلیجی خطے میں امن معاہدہ مستقل بنیادوں پر برقرار رہتا ہے تو اگلی سہ ماہی کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں بہتری اور غیر ملکی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے کے قوی امکانات موجود ہیں، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا۔ 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس