پاکستان میں زراعت کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 'کسان کارڈ 2.0' کا اجرا اور بلا سود قرضوں کی فراہمی کا آغاز

حکومت پاکستان نے آج 18 اپریل 2026 کو زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لیے 'کسان کارڈ 2.0' کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک بھر کے لاکھوں چھوٹے کسانوں کو بیج، کھاد اور جدید زرعی مشینری کی خریداری کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران واضح کیا کہ اس کارڈ کے ذریعے کسانوں کو براہِ راست سبسڈی دی جائے گی جس سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ اس کارڈ کو جدید بائیو میٹرک سسٹم سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس پروگرام کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کی انشورنس اور لائیو اسٹاک کی بہتر دیکھ بھال کے لیے بھی خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دیہی علاقوں میں غربت میں کمی آئے گی اور پاکستان خوراک کی فراہمی میں خود کفیل ہو سکے گا۔ حکومت نے صوبائی سطح پر خصوصی مراکز قائم کیے ہیں جہاں کسانوں کو کارڈ کے استعمال اور جدید کاشتکاری کے طریقوں کے بارے میں تربیت دی جا رہی ہے، جس سے زراعت کے شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس