پاکستان میں توانائی کا بحران شدید ہو رہا ہے، حکومت نئی حکمت عملی کا اعلان کرتی ہے

پاکستان میں بجلی کی کمی کا بحران شدید ہو گیا ہے، جس سے صنعتی پیداواری صلاحیت میں 25 فیصد کمی آئی ہے اور لاکھوں شہری روزانہ 12 گھنٹے سے زیادہ بجلی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت نے اسلام آباد میں ایک جدید توانائی کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے تین سالوں میں 15 گیگا واٹ نئی بجلی کی صلاحیت شامل کرے گی، جس میں شمسی اور ہوا کی توانائی پر خصوصی توجہ ہوگی۔ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کے تحت، پاکستان نے بیلٹ اور روڈ انیشیٹو کے تحت بڑے پیمانے پر توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن ان منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر توانائی کا بحران حل نہ ہوا تو پاکستان کی جی ڈی پی میں 2 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت نے نجی شعبے کو توانائی کی تیاری میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے، اور بیرونی ملکوں سے تکنیکی معاونت حاصل کی ہے۔ تاہم، بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے بہت سے منصوبے رکے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو نہ صرف نئی بجلی کی صلاحیت بڑھانی ہے بلکہ موجودہ نیٹ ورک کو بہتر بنانا اور نقصان کو کم کرنا بھی ضروری ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بجلی کی کمی سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں سنگین رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس