VoS NEWS DESK | اسلام آباد | 25 جولائی 2026
وزارتِ تعلیم کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایسے بچوں اور نوجوانوں تک معیاری تعلیم پہنچانا ہے جو مختلف معاشی یا سماجی وجوہات کی بنا پر باقاعدہ اسکولوں میں داخلہ حاصل نہیں کر سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی حکمتِ عملی کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں نان فارمل لرننگ سینٹرز کو مزید فعال بنایا جائے گا، جدید تدریسی طریقوں کو فروغ دیا جائے گا اور اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
منصوبے میں بنیادی خواندگی، عملی مہارتوں، ڈیجیٹل تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ طلبہ نہ صرف تعلیم حاصل کریں بلکہ مستقبل میں بہتر روزگار کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے لاکھوں بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی اور قومی شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوگا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ نان فارمل ایجوکیشن پاکستان کے لیے ایک اہم ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ ملک میں اب بھی بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر منصوبہ بندی، مناسب فنڈنگ، جدید نصاب اور مقامی سطح پر تعاون اس پروگرام کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
ماہرین کے مطابق نان فارمل ایجوکیشن کو مضبوط بنانا پاکستان کے تعلیمی مستقبل میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ اگر حکومت، نجی ادارے اور بین الاقوامی شراکت دار مل کر اس حکمتِ عملی پر مؤثر انداز میں عمل کریں تو نہ صرف شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوان نسل کو بہتر مہارتیں، روزگار کے مواقع اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔
ماخذ: VoS News Desk
