ورلڈ اکنامک فورم: مصنوعی ذہانت (AI) ملازمتوں کے ڈھانچے کو بدل رہی ہے

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ایک حالیہ اجلاس کے دوران عالمی اقتصادی فورم (WEF) نے خبردار کیا ہے کہ 2026 کے آخر تک مصنوعی ذہانت کی وجہ سے دنیا بھر میں تقریباً 85 ملین ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی 97 ملین نئی اسامیاں بھی پیدا ہوں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی (AI) اب محض ایک تکنیکی سہولت نہیں بلکہ عالمی معیشت کا بنیادی ستون بن چکی ہے، جس نے مینوفیکچرنگ سے لے کر ہیلتھ کیئر تک ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتوں کو اپنے تعلیمی نصاب اور افرادی قوت کی تربیت کے پروگراموں کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کرنا ہوگا تاکہ لوگ نئی ڈیجیٹل دنیا کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ وہ ممالک جو اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سستی دکھا رہے ہیں، وہ عالمی تجارتی مقابلے میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ سپین، امریکہ اور چین جیسے ممالک اس وقت اے آئی ریگولیشنز پر کام کر رہے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد کو سمیٹنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور پرائیویسی کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس