میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے داخلہ امتحانات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کی لازمی شرط کا نفاذ

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے رواں تعلیمی سال کے دوران ہونے والے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے انٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے امیدواروں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کی شرط لازمی قرار دے دی ہے۔ اب ہر طالب علم کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ٹیسٹ سینٹر کے داخلی راستے پر اپنی انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کروائے تاکہ امتحانات میں کسی بھی قسم کی بوٹی مافیا، جعل سازی یا اصل امیدوار کی جگہ کسی دوسرے شخص کے بیٹھنے کے امکانات کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ پچھلے چند سالوں میں سامنے آنے والے پیپر لیک اور دیگر بدعنوانیوں کے واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ میرٹ کی پامالی کو روکا جا سکے۔ اگرچہ والدین اور تعلیمی حلقوں نے اس فیصلے کو میرٹ کی بالادستی کے لیے ایک درست قدم قرار دیا ہے، تاہم طلبہ برادری کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ دور دراز علاقوں کے سینٹرز پر مشینوں کی دستیابی اور انٹرنیٹ کے تکنیکی مسائل کو پہلے سے دور کیا جائے تاکہ امتحان کے دوران قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ کونسل نے واضح طور پر الرٹ جاری کر دیا ہے کہ بائیو میٹرک ڈیٹا میچ نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی امیدوار کو ہال میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی چاہے اس کے پاس تمام اصل دستاویزات ہی کیوں نہ ہوں۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار اور ساکھ کو عالمی سطح پر بحال کرنا ہے تاکہ صرف باصلاحیت طلبہ ہی اس مقدس پیشے کا حصہ بن سکیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس