VoS NEWS DESK | اسلام آباد | 27 جولائی 2026
حکام کے مطابق خصوصی موبائل ٹیمیں، فیلڈ ورکرز اور طبی عملہ شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بھی بچوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں پر بھی خصوصی پولیو ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ سفر کرنے والے بچوں کو حفاظتی قطرے فراہم کیے جا سکیں۔
محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ انسداد بیماری ہے، جس سے بچاؤ کا مؤثر ترین طریقہ بروقت ویکسینیشن ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہر مہم کے دوران تمام بچوں تک رسائی حاصل کی جائے تو پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے والدین سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور صرف مستند طبی معلومات پر اعتماد کرنے کی اپیل بھی کی۔
حکام نے بتایا کہ مہم کی کامیابی کے لیے مقامی انتظامیہ، سکیورٹی ادارے اور رضاکار بھی بھرپور تعاون کر رہے ہیں تاکہ ہر بچے تک محفوظ ماحول میں ویکسین پہنچ سکے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر شراکت دار ادارے بھی تکنیکی معاونت اور نگرانی کے ذریعے اس مہم کی حمایت کر رہے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
ماہرین صحت کے مطابق پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل ویکسینیشن، عوامی آگاہی اور ہر بچے تک رسائی بنیادی ستون ہیں۔ اگر قومی سطح پر یہی رفتار برقرار رہی اور والدین بھرپور تعاون کرتے رہے تو پاکستان پولیو سے پاک ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی جانب اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔
ماخذ: VoS News Desk
