دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نئی ادویات کی تیاری؛ کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت
آج طبی دنیا میں ایک انقلابی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک جدید ترین اے آئی سسٹم نے صرف 48 گھنٹوں میں کینسر کے مخصوص خلیوں کو نشانہ بنانے والی تین نئی ادویات کے فارمولے تیار کر لیے ہیں۔ روایتی طور پر اس عمل پر دس سال اور اربوں ڈالر خرچ ہوتے تھے۔ ان ادویات کا ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹ کامیاب رہا ہے اور اب انسانی آزمائش کے لیے عالمی ادارہ صحت سے اجازت طلب کر لی گئی ہے۔ یہ AI نظام اربوں جینیاتی ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے اور مالیکیولر ڈھانچے بناتا ہے جو انسانی جسم کے صحت مند خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف بیماری کو ختم کرتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے آنے والے برسوں میں علاج کے اخراجات میں 80 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے جس سے غریب ممالک میں مریضوں کو جدید ترین طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی نے دوا سازی کی صنعت میں ایک نیا جوش پیدا کیا ہے۔ اب AI کے ذریعے 'نایاب بیماریوں' کا حل تلاش کرنے کے لیے مختلف لیبز میں خصوصی یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اب تک کا سب سے طاقتور ہتھیار بن کر ابھر رہی ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
