VoS - قاہرہ / منامہ — مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر ایک ہولناک اور بڑے پیمانے کی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی فضائیہ کی جانب سے ایرانی حدود کے قریب کی جانے والی بمباری کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اتوار کی صبح ایک انتہائی جارحانہ قدم اٹھاتے ہوئے کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوج کی 8 اہم ترین سٹرٹیجک تنصیبات پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور کامیکازی ڈرونز سے حملہ کر دیا ہے۔ سفارتی اور فوجی ذرائع کے مطابق، اس حملے کا بنیادی نشانہ کویت میں واقع 'علی السالم' ایئر بیس اور بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں فلیٹ (5th Fleet) کا مرکزی ہیڈ کوارٹر تھا، جہاں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایرانی رڈار نیٹ ورکس اور ڈرون کے گوداموں پر کیے گئے 10 فضائی حملوں کا براہِ راست اور فوری جواب ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور امریکی جارحیت کا اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ اس حملے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے موجود شدید ترین سیاسی اور سفارتی خلیج اب ایک باقاعدہ فوجی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
دوسری جانب، کویت کی وزارتِ دفاع نے اپنے فوجی اڈوں پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے جدید پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز نے فضا میں ہی متعدد ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا، تاہم کچھ حصوں میں ملبہ گرنے سے مادی نقصان ہوا ہے۔ بحرین میں بھی امریکی بحریہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور خلیجِ فارس کی تمام تجارتی گزرگاہوں میں بحری جہازوں کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ اس فوجی تصادم کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اور بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔
