دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
خلائی تحقیق میں نیا موڑ؛ 'جیمز ویب' ٹیلی اسکوپ نے دور دراز سیارے پر آکسیجن کے آثار ڈھونڈ لیے
ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے آج فلکیات کی دنیا میں ایک تہلکہ خیز دریافت کی ہے۔ زمین سے سینکڑوں نوری سال دور ایک زمین نما سیارے کے ایٹموسفیئر میں آکسیجن اور مخصوص کیمیائی گیسوں کے آثار ملے ہیں جو زندگی کے وجود کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ دریافت "ایکسو پلانیٹ" تحقیق میں اب تک کا سب سے بڑا سنگِ میل ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی دوسرے نظامِ شمسی کے سیارے پر زندگی کے لیے سازگار حالات کی اتنی واضح شہادت ملی ہے۔
سائنسدانوں کی ٹیم اب اس سیارے کے درجہ حرارت اور سطح پر موجود مائعات (Liquids) کا مطالعہ کرنے کے لیے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کر رہی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہاں زندگی موجود ہے، لیکن آکسیجن کی موجودگی اس امکان کو قوی بناتی ہے۔ عالمی خلائی ایجنسیوں نے اسے 'انسانی تاریخ کی بڑی دریافت' قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس سیارے کی مزید ہائی ریزولوشن تصاویر حاصل کی جائیں گی۔ یہ دریافت ہمیں اس سوال کے جواب کے قریب لے آئی ہے کہ کیا کائنات میں ہم اکیلے ہیں؟
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
