دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
بولیویا کے دارالحکومت میں احتجاجی مارچ تصادم میں بدل گیا
الجزیرہ کی 18 مئی کی رپورٹ کے مطابق بولیویا کے دارالحکومت میں سابق صدر ایوو مورالیس کے حامی مظاہرین کے مارچ کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جس سے ملک کی سیاسی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی۔ احتجاج صرف سڑکوں پر طاقت کے اظہار تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ اس بڑے بحران کی علامت بھی تھا جس میں بولیویا کی قیادت، عوامی نمائندگی اور سیاسی جواز کے سوالات شامل ہیں۔ جب کان کنوں اور سیاسی کارکنوں پر مشتمل ہجوم دارالحکومت کی طرف بڑھتا ہے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ تنازع صرف پارلیمانی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عوامی مزاحمت کی صورت اختیار کر لی ہے۔
عالمی خبر کے طور پر یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ لاطینی امریکہ میں سیاسی عدم استحکام اکثر علاقائی سفارت کاری، سرمایہ کاری کے ماحول اور جمہوری اداروں کے بارے میں عالمی خدشات کو بڑھا دیتا ہے۔ بولیویا پہلے ہی شدید سیاسی تقسیم کا شکار رہا ہے، اور ایسے مظاہرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اقتدار کے سوال پر کشمکش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر حکومت اور احتجاجی قوتیں مفاہمت کی طرف نہ بڑھیں تو سڑکوں کی کشیدگی وسیع تر قومی بحران میں بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
