امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیڈ لاک: وہ 5 بڑے تنازعات کیا ہیں جو عالمی امن کی راہ میں حائل ہیں؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی حکام کے درمیان اس میراتھن ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس وقت دونوں طاقتوں کے درمیان 5 ایسے بڑے اختلافات ہیں جن پر اتفاق رائے نہ ہونا عالمی معیشت اور سکیورٹی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے: جوہری پروگرام کا مستقبل: واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران مستقل طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا تحریری عہد کرے، جبکہ تہران اسے اپنے خود مختار حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) پر کنٹرول: ایران اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس وصول کرنا چاہتا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے اسے "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے بحری ناکہ بندی کا انتباہ دیا ہے۔ منجمد اثاثوں کی واپسی: ایران قطر اور دیگر ممالک میں پڑے اپنے اربوں ڈالرز کے اثاثوں کی فوری واپسی چاہتا ہے، جس پر امریکہ فی الحال رضامند نہیں۔ جنگ کا ہرجانہ: ایرانی وفد نے حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کے ازالے (Reparations) کا مطالبہ کیا ہے جسے امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔ علاقائی اثر و رسوخ اور لبنان کی صورتحال: امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کو محدود کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاعی مفادات کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور 22 اپریل کو ختم ہونے والی عارضی فائر بندی اب خطرے میں ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس