مرکزی بینک کے اسکارسٹک ڈیٹا کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی کے دوران بین الاقوامی مارکیٹوں سے مجموعی طور پر فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کی آمد 295.07 ملین ڈالر پر رہی۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی واپسی اور ڈس انویسٹمنٹ کی کارروائیوں کو ظاہر کرنے والے کل سرمائے کا اخراج (آؤٹ فلو) اسی ماہانہ ونڈو کے لیے نمایاں طور پر قابو میں رہا اور صرف 80.78 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ ادائیگیوں کے توازن کا یہ منظم انتظام اپریل کے پچھلے مہینے کے بالکل برعکس ہے، جب 218.92 ملین ڈالر تک پہنچنے والے سرمائے کے بھاری اخراج نے نیٹ بیلنس کو سہ ماہی کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سیکٹرل رپورٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رفتار بنیادی طور پر کور انفراسٹرکچر بلاکس میں مسلسل سرمایہ کاری کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ پاور جنریشن، تھرمل سپلائی، اور فنانشل و انشورنس آپریشنز غیر ملکی سرمائے کا بڑا حصہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جب کہ کنسٹرکشن اور لاجسٹکس نیٹ ورکس نے سرحد پار شراکت داری میں مسلسل اوپر کی طرف سفر دکھایا۔ بیرونی مالیاتی بہاؤ پر اس کنٹرول کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آمد براہ راست غیر ملکی اسٹیک ہولڈرز کی حکمت عملی میں ایک سوچی سمجھی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو اپنے اثاثوں کو مقامی ایکو سسٹم سے مکمل طور پر نکالنے کے بجائے مقامی ذیلی اداروں میں حاصل ہونے والے منافع کو دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے منتخب کر رہے ہیں۔
مالی سال کے آخری مرحلے میں داخل ہوتے ہی، سرمائے کی یہ اچانک آمد پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک اہم لائف لائن فراہم کرتی ہے، جس سے مرکزی بینک کے لیکویڈیٹی مینجمنٹ پر پڑنے والے دباؤ میں کمی آئے گی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی تجارتی کھاتے میں توازن برقرار رکھنے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مستحکم کرنے کے لیے نیٹ ایف ڈی آئی کے مستقل بہاؤ کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔ مزید برآں، یہ معاشی رفتار ایک ایسے حساس وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت ملک کو کاروبار دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل سروسز، سول ایوی ایشن، اور پبلک یوٹیلیٹی سیکٹرز میں کثیر الجہتی اصلاحات شروع کر رہی ہے۔ 214.29 ملین ڈالر تک کا یہ تیز رفتار اضافہ ملک کے معاشی مینیجرز کے لیے ایک انمول ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے، جو انہیں خود مختار ویلتھ فنڈز اور ملٹی نیشنل اداروں کو آنے والے نجکاری کے منصوبوں کی مارکیٹنگ کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر ریگولیٹری ماحول اسی طرح برقرار رہتا ہے اور حکومت بین الاقوامی اداروں کے لیے انتظامی رکاوٹوں کو مسلسل کم کرنے میں کامیاب رہتی ہے، تو مئی کے وسط کا یہ اچھال آنے والی سہ ماہیوں میں عالمی سرمایہ کاری کی ایک بہت بڑی اور طویل مدتی لہر کے لیے راستہ ہموار کر سکتا ہے۔
