اسلام آباد میں 'افغان عبوری حکومت' اور عالمی سفارت کاروں کا اہم اجلاس، علاقائی سلامتی پر اتفاق

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج 19 اپریل 2026 کو ایک اہم سفارتی مشن کے تحت افغان عبوری حکومت کے وفد اور متعدد ممالک کے سفارت کاروں کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان میں انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کی تعلیم اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ پاکستانی حکام نے اس موقع پر ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، اجلاس میں امریکہ، چین اور روس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جہاں افغان وفد نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس سفارتی پیش رفت کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طویل عرصے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔ عالمی برادری نے افغانستان میں جاری امدادی کاموں میں تیزی لانے اور بینکنگ چینلز کو جزوی طور پر بحال کرنے پر بھی غور کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو افغان عوام کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس