آبنائے ہرمز پر تسلط قائم کرنے کی ایرانی کوششیں اور امریکہ کا 'تیزی سے خاتمے' کا دعویٰ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اہم تجارتی راستے کی نگرانی اور کنٹرول کو سخت کرنے کے اعلان کے بعد عالمی تناؤ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو اب ایرانی بحریہ سے اجازت لینا ہوگی۔ اس پیش رفت کے جواب میں، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیانات جاری کیے ہیں کہ تہران کے ساتھ جاری تنازع "بہت جلد" ختم ہو جائے گا، تاہم انہوں نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں سخت فوجی کارروائی کا اشارہ بھی دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے خام تیل کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ فراہم کرتا ہے اور یہاں کوئی بھی خلل عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے ایران کے پہلے بڑے جارحانہ سفارتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں غیر یقینی ہو گئی ہیں جبکہ نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک سمندری تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس