VoS NEWS DESK | NATIONAL SECURITY | 24 ستمبر 2026
آئی ایس پی آر کے مطابق شابان کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر سے کلیئرنس آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی، جن میں علاقے میں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران متعدد ٹھکانوں کو کلیئر کیا۔ فوج کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 13 عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ کلیئر کیے گئے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کا مقصد علاقے کو مسلح عناصر سے پاک کرنا اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ شابان میں آپریشن مکمل طور پر ختم ہونے تک کارروائی جاری رکھنے کی بات بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ 22 اور 23 ستمبر کو کیچ اور کوئٹہ ویسٹ کے اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران مزید چھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور ان کے قبضے سے بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں سب دار محمد جمیل بھی جاں بحق ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وہ 39 سال کے تھے اور ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف سے تعلق رکھتے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے شابان اور دیگر علاقوں میں کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا اور جاں بحق ہونے والے سب دار محمد جمیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
بلوچستان میں ہونے والی یہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔ شابان، کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں کے ساتھ اسلحہ اور دیگر مواد کی برآمدگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جبکہ ایک فوجی اہلکار کی جان بھی گئی۔
Source: ISPR, Dawn, Business Recorder.
