کراچی میں 20 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ، پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی

کراچی میں 20 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ، پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی

VoS NEWS DESK | سندھ اور شہری امور | 12 اکتوبر 2026

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے دفعہ 144 کے نفاذ کا حکم جاری کیا، جو 20 اکتوبر تک مؤثر رہے گا۔ اس حکم کے تحت پانچ سے زائد افراد پر مشتمل عوامی اجتماعات اور احتجاجی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ سندھ کے محکمہ داخلہ اور پولیس کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد کیا گیا، جن میں بتایا گیا تھا کہ شہر کی اہم سڑکوں، چوراہوں اور گول چکروں پر احتجاجی سرگرمیوں اور دھرنوں کے باعث ٹریفک جام ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال سے شہریوں کی نقل و حرکت اور معمول کے کاروباری معاملات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

دفعہ 144 ضابطۂ فوجداری کے تحت مقامی انتظامیہ کو مخصوص حالات میں عوامی اجتماعات اور بعض سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اس کا اطلاق متعلقہ سرکاری حکم میں درج حدود اور مدت کے مطابق ہوتا ہے۔

جاری کردہ حکم کے مطابق پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات کے علاوہ احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، جلوسوں اور دھرنوں پر بھی پابندی ہوگی۔ حکام نے اس اقدام کا مقصد شہر میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور ایسی سرگرمیوں کو روکنا بتایا ہے جو اہم شاہراہوں کی بندش یا شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہیں۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور اہم معاشی مرکز ہے۔ یہاں سڑکوں کی بندش کا اثر صرف نجی گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیوں، سامان کی ترسیل اور ہنگامی خدمات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

خصوصاً جب بڑی شاہراہیں یا چوراہے بند ہوتے ہیں تو ایمبولینسوں اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے اسی نوعیت کے خدشات کو پابندی کے اسباب میں شامل کیا ہے۔

دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران شہریوں کو عوامی اجتماعات یا احتجاج میں شرکت سے پہلے سرکاری ہدایات کا جائزہ لینا چاہیے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور متعلقہ ادارے پابندی پر عمل درآمد کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

کراچی میں کاروباری مراکز، تعلیمی اداروں اور دفاتر تک رسائی بڑی حد تک سڑکوں کی صورتِ حال سے وابستہ ہے۔ اگر کسی اہم راستے پر احتجاج یا دھرنا ہو تو ملازمین، طلبہ، مریضوں اور کاروباری افراد کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب، عوامی احتجاج شہریوں کے لیے اپنی شکایات اور مطالبات سامنے لانے کا ایک ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے پابندی کے نفاذ کے دوران انتظامیہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ قانونی تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے شہریوں کو واضح معلومات فراہم کرے اور ہنگامی خدمات کی رسائی برقرار رکھے۔

حکم نامے کے مطابق متعلقہ پولیس حکام کو پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پابندی کی مدت اور اس کے دائرۂ کار کو سمجھیں، غیر مصدقہ سوشل میڈیا اطلاعات پر انحصار نہ کریں اور کسی بھی احتجاج یا عوامی اجتماع سے متعلق تازہ ہدایات کے لیے سرکاری اعلانات دیکھیں۔

یہ بھی اہم ہے کہ پابندی کی عملی تفصیلات اور نفاذ سے متعلق اقدامات کے لیے متعلقہ حکام کے جاری کردہ اصل نوٹیفکیشن کو بنیادی حوالہ سمجھا جائے۔

موجودہ حکم کے مطابق پابندی 20 اکتوبر تک نافذ ہے۔ اس کے بعد پابندی میں توسیع، تبدیلی یا خاتمے کا انحصار انتظامیہ کے فیصلے اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن پر ہوگا۔ اس لیے شہریوں کو یہ فرض نہیں کرنا چاہیے کہ موجودہ حکم خودبخود آگے بھی جاری رہے گا یا مقررہ تاریخ سے پہلے ختم ہو جائے گا۔

انتظامیہ کی جانب سے آنے والے دنوں میں امن و امان، ٹریفک اور عوامی سرگرمیوں کی صورتِ حال پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ شہریوں کے لیے بہتر ہوگا کہ سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت سرکاری ٹریفک اپ ڈیٹس اور مقامی خبروں سے آگاہ رہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

کراچی میں دفعہ 144 کا نفاذ شہری نظم و نسق، عوامی تحفظ اور احتجاج کے حق کے درمیان توازن کا معاملہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس کا مقصد ٹریفک کی بندش، ہنگامی خدمات میں رکاوٹ اور امن و امان کے خدشات کو کم کرنا ہے۔

اس فیصلے کی افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ آیا شہریوں کی نقل و حرکت محفوظ رہتی ہے، ہنگامی خدمات بلا رکاوٹ کام کرتی ہیں اور پابندی شفاف و یکساں انداز میں نافذ ہوتی ہے۔ واضح سرکاری معلومات اور قانون کے مطابق عمل درآمد عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماخذ: Dawn — کراچی میں 20 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ · ایکسپریس ٹریبیون — کراچی میں دس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس