VoS NEWS DESK | LATEST PAKISTAN | 5 اکتوبر 2026
پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر احتجاج، مذاکرات اور سیاسی کشیدگی مرکزی موضوع بن گئے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے سابق وزیراعظم اور پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کردیا ہے۔ یہ مارچ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان احتجاج کو روکنے اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے مذاکرات کیے گئے، تاہم دونوں فریق کسی قابلِ قبول حل تک نہیں پہنچ سکے۔
لانگ مارچ کا آغاز خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ہوا، جہاں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکن جمع ہوئے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ کی قیادت کی اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سیاسی مؤقف کو دہرایا۔ قافلے نے بعد ازاں مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔ ڈان کے مطابق قافلہ رات گئے ضلع کرک میں داخل ہوگیا تھا۔
پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔ پارٹی اس کے ساتھ عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور ان کے اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے اور جیل میں ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
حالیہ سیاسی صورتحال میں سب سے اہم پیش رفت حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ناکام ہونا ہے۔ احتجاج کو مؤخر کرنے کے لیے ہونے والی بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے، جبکہ حکومت نے لانگ مارچ کو روکنے یا مؤخر کرنے پر زور دیا۔
حکومت نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کو بھی اپنی تشویش کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندانہ حملوں کے خدشات کے باعث حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں بڑے پیمانے پر سیاسی اجتماع سکیورٹی کے لیے اضافی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور شہر کے بعض حصوں میں رکاوٹیں اور سکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کرنا اس کا حق ہے۔ پارٹی قیادت نے کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچیں۔ اس صورتحال نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تصادم کے خدشات کو نمایاں کردیا ہے۔
لانگ مارچ کی موجودہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کا اثر صرف سیاسی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ اگر اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں اہم شاہراہیں بند ہوتی ہیں تو ٹریفک، کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں اور روزمرہ شہری زندگی پر اثر پڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ راولپنڈی کے تاجر بھی ممکنہ سڑکوں کی بندش کے حوالے سے تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی بڑے سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ دیکھ چکا ہے۔ ایسے مواقع پر مذاکرات اور انتظامی اقدامات کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، لیکن بعض احتجاج ماضی میں پرتشدد جھڑپوں میں بھی تبدیل ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں موجودہ مارچ کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے تحمل اور سیاسی رابطہ برقرار رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
موجودہ لانگ مارچ پاکستان کے لیے صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، ریاستی اداروں، سکیورٹی صورتحال اور عوامی اعتماد کے درمیان توازن کا امتحان بھی ہے۔
اگر حکومت اور پی ٹی آئی دوبارہ مذاکرات کی طرف واپس آتے ہیں تو کشیدگی کو کم کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ تاہم اگر احتجاج طویل ہوتا ہے اور اسلام آباد میں بڑی تعداد میں کارکن جمع ہوتے ہیں تو سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ معاشی اور انتظامی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے اہم عنصر یہ ہوگا کہ فریقین احتجاج اور ریاستی ردعمل کے درمیان ایسی حد برقرار رکھیں جہاں سیاسی اختلاف پرامن سیاسی عمل کے اندر رہے۔ پاکستان کی سیاسی استحکام کی ضرورت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ملک کو سکیورٹی اور معاشی چیلنجز کا بھی سامنا ہو۔
Source: Associated Press, Dawn, AFP
