VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 8 OCTOBER 2026
رپورٹس کے مطابق ہزاروں پی ٹی آئی کارکنان نے 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی سمت مارچ کا آغاز کیا تھا۔ اس احتجاج کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے، جبکہ پارٹی کی جانب سے دیگر سیاسی اور قانونی معاملات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
مارچ کے دوران قافلے نے مختلف علاقوں سے سفر کیا اور اس کا روٹ متعدد مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ 7 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ خیبر ضلع پہنچا، جہاں انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں کسی نئی فوجی کارروائی کی مخالفت کا اظہار کیا۔
مارچ کا ابتدائی روٹ پلان اس کے آغاز سے ہی تبدیل ہوتا رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق 8 اکتوبر کے لیے قافلے کی منزل میں تبدیلی کرتے ہوئے پشاور کو موجودہ منزل قرار دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کی آئندہ حکمت عملی سفر کے دوران حالات اور سیاسی پیش رفت کے مطابق طے کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مارچ ایک ایسے سیاسی ماحول میں کیا جا رہا ہے جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے۔ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، تاہم دونوں فریق بنیادی معاملات پر کسی حتمی اتفاق تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاجی مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
حکومت کی جانب سے مارچ کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں ماضی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران سڑکوں کی بندش، سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور شہری آمدورفت میں رکاوٹ جیسے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں، اسی لیے موجودہ مارچ کے دوران بھی انتظامیہ کی جانب سے مختلف سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی رہائی اور ان سے متعلق معاملات پر پیش رفت کے بغیر سیاسی مفاہمت ممکن نہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے بانی کو سیاسی طور پر اہم فیصلہ سازی میں شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ حکومت کی جانب سے سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
مارچ کے ساتھ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال بھی قومی سیاست کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ چونکہ صوبائی حکومت خود اس مارچ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات بھی مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔
اگر مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھتا ہے تو دارالحکومت کی سیکیورٹی، ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی نقل و حرکت پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اگر حکومت اور پی ٹی آئی دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کا راستہ بھی نکل سکتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پی ٹی آئی کا موجودہ لانگ مارچ صرف ایک احتجاجی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور وفاقی تعلقات کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ اگر احتجاج اور حکومتی ردعمل میں شدت آتی ہے تو سیاسی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے، جبکہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کی بحالی صورتحال کو نسبتاً پُرامن راستے پر لے جا سکتی ہے۔ موجودہ مرحلے میں سب سے اہم عنصر یہ ہوگا کہ دونوں فریق احتجاج، سیکیورٹی اور سیاسی مذاکرات کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔
Source: AP | Dawn | Pakistan political reporting AP News
