VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 17 ستمبر 2026
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق فضائی پابندی میں توسیع 16 ستمبر کو صبح 10 بج کر 45 منٹ سے نافذ ہوئی اور اب یہ پابندی 24 اکتوبر 2026 کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک برقرار رہے گی۔ یہ پابندی کراچی اور لاہور دونوں فلائٹ انفارمیشن ریجنز پر لاگو ہے۔
NOTAM کے مطابق پابندی صرف بھارتی کمرشل مسافر طیاروں تک محدود نہیں بلکہ بھارتی رجسٹرڈ طیاروں، بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کے زیرِ ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں اور فوجی پروازوں کو بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ پابندی پہلی مرتبہ اپریل 2025 میں نافذ کی گئی تھی اور اس کے بعد پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے مختلف اوقات میں اس میں توسیع کی جاتی رہی ہے۔ تازہ توسیع سے قبل موجودہ پابندی کی مدت 24 ستمبر کو ختم ہونا تھی، جسے اب مزید تقریباً ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی حدود کی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی تھیں۔ 2025 میں پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا، جس کے بعد فضائی اور دیگر سفارتی اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی، جبکہ بھارت نے بھی پاکستانی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندیاں عائد کیں۔
تازہ پابندی کے نتیجے میں بھارتی ایئرلائنز کو پاکستان کے فضائی راستے کے بجائے متبادل اور طویل روٹس استعمال کرنا پڑتے ہیں، خصوصاً یورپ، شمالی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق بعض بین الاقوامی پروازوں میں۔ طویل روٹس کے باعث پروازوں کے دورانیے اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
Dawn کے مطابق Air India سمیت بھارتی ایئرلائنز پہلے ہی اس پابندی کے باعث طویل راستے استعمال کر رہی ہیں۔ ایک سابقہ دستاویز کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بعض طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا اور کچھ روٹس پر سفر کا وقت بھی بڑھا۔
دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود کی پابندی نے علاقائی ہوا بازی کے لیے بھی ایک اضافی چیلنج پیدا کیا ہے، کیونکہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان متعدد فضائی راستوں کے لیے اہم ہے۔ بھارتی طیاروں کو پاکستان سے گزرنے کے بجائے متبادل راستوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، جس سے بعض پروازوں کی آپریشنل لاگت بڑھ سکتی ہے۔
تازہ NOTAM کے ذریعے یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان نے فی الحال بھارتی طیاروں کے لیے فضائی پابندی ختم کرنے کے بجائے اس کی مدت میں مزید توسیع کی ہے۔ 24 اکتوبر اب اس پابندی کی نئی مقررہ اختتامی تاریخ ہے، تاہم مستقبل میں نئی NOTAM کے ذریعے اس میں مزید تبدیلی یا توسیع کی جاسکتی ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ فضائی اور سفارتی صورتحال کے تناظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود سے متعلق پابندیاں پہلے بھی متعدد مرتبہ توسیع کا شکار ہوچکی ہیں، اس لیے آئندہ فیصلہ دونوں حکومتوں کے تعلقات اور متعلقہ حکام کے اقدامات پر منحصر ہوگا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں 24 اکتوبر تک توسیع کا براہِ راست اثر بھارتی ایئرلائنز کے روٹ پلاننگ اور آپریشنل اخراجات پر پڑتا ہے، کیونکہ انہیں پاکستان کے فضائی راستے سے گریز کرتے ہوئے متبادل روٹس اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ دوسری جانب یہ فیصلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری فضائی پابندیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ فی الحال NOTAM نے پابندی کی نئی مدت واضح کردی ہے، جبکہ اس کے بعد کی صورتحال آئندہ سرکاری فیصلے سے طے ہوگی۔
Source: Dawn، Geo News، The News International.
