اپوزیشن اتحاد کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ، 27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رکھنے کا اعلان

اپوزیشن اتحاد کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ، 27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن رکھنے کا اعلان

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 19 September 2026

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، معاشی مسائل، امن و امان اور آئینی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کی مختلف جمہوری سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کو تیز کرنے اور رابطہ کمیٹیاں تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اپوزیشن اتحاد نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کو پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد قرار دیا۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ احتجاج کے دوران آئین، پارلیمنٹ، صوبائی حقوق اور وفاقی نظام سے متعلق معاملات کو اہمیت دی جائے گی۔

اجلاس میں مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول کی قیمتوں اور امن و امان کی صورتحال کو بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے اہم موضوعات میں شامل کیا گیا۔ اپوزیشن اتحاد نے مختلف عوامی اور سیاسی مسائل کو احتجاجی ایجنڈے کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

صوبائی حقوق اور قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ بھی اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ شرکا نے آئین، پارلیمنٹ، وفاقی ڈھانچے اور صوبوں کے وسائل و اختیارات کے تحفظ پر زور دیا۔ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ملک کے اندر سیاسی اور معاشی مسائل کے ساتھ علاقائی صورتحال کو بھی اہم قرار دیا۔

اپوزیشن اتحاد نے بعض دیگر معاملات پر بھی مطالبات سامنے رکھے، جن میں لاپتا افراد کی بازیابی، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، صوبائی وسائل اور پانی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ اجلاس میں سندھ کی موجودہ جغرافیائی اور انتظامی حیثیت کے حوالے سے بھی مؤقف پیش کیا گیا۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے مارچ کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی پُرامن احتجاج کی بات کی ہے۔ PTI چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی 27 ستمبر کو پُرامن احتجاج کرے گی اور سڑکیں بند کرنے یا بدامنی پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

آل پارٹیز کانفرنس کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف اپوزیشن جماعتیں 27 ستمبر کی سیاسی سرگرمی کے حوالے سے رابطے کر رہی ہیں۔ کانفرنس میں کون کون سی جماعتیں شرکت کرتی ہیں اور مشترکہ سیاسی ایجنڈا کس شکل میں سامنے آتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم کانفرنس کی حتمی شرکت، ایجنڈا اور اس کے بعد کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی ابھی طے ہونا باقی ہے۔

27 ستمبر کے لانگ مارچ کو پُرامن اور آئینی رکھنے کے بیانات بھی موجودہ سیاسی صورتحال کا اہم حصہ ہیں۔ احتجاج کی عملی نوعیت کا انحصار سیاسی جماعتوں کے فیصلوں، انتظامی اقدامات، قانونی معاملات اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں پر ہوگا۔

Source: The Express Tribune; Dawn; The News Pakistan. 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس