پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ریاض میں اہم دفاعی مذاکرات، علاقائی سکیورٹی تعاون مرکزِ توجہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ریاض میں اہم دفاعی مذاکرات، علاقائی سکیورٹی تعاون مرکزِ توجہ

VoS NEWS DESK | INTERNATIONAL | 5 اکتوبر 2026

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں ہورہا ہے، جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ سیاسی اور عسکری حکام شرکت کر رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ آصف اجلاس میں شریک ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے بھی وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان نے اس اجلاس میں شرکت کو علاقائی امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھنے کے عزم سے بھی جوڑا ہے۔

یہ اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کو زیادہ منظم شکل دینے کی کوشش ہے۔ تینوں ممالک پہلے ہی مختلف شعبوں میں قریبی سیاسی، دفاعی اور معاشی روابط رکھتے ہیں، لیکن موجودہ علاقائی صورتحال نے سکیورٹی تعاون کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

یمن کی صورتحال بھی اجلاس کے پس منظر میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ خطے میں حوثی گروپ سے متعلق سکیورٹی خدشات، سعودی عرب کی علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تینوں ممالک کے لیے مشترکہ مشاورت کی ضرورت میں اضافہ کیا ہے۔ حالیہ رپورٹس میں مکہ معاہدے کے رکن ممالک کے درمیان علاقائی صورتحال اور حوثیوں سے متعلق ممکنہ حکمتِ عملی پر مشاورت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات پہلے ہی کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جبکہ ترکی کے ساتھ بھی دفاعی تعاون مسلسل وسیع ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے فوجی اور دفاعی روابط تربیت، مشاورت اور مختلف دفاعی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ترکی بھی پاکستان کے لیے ایک اہم دفاعی شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات بھی مضبوط ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات اس تعاون کو مزید اہم بناتے ہیں۔

ریاض میں ہونے والا اجلاس تینوں ممالک کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ موجودہ علاقائی خطرات پر مشترکہ موقف اور تعاون کے ممکنہ راستوں پر تبادلہ خیال کریں۔ خاص طور پر خلیج، بحیرۂ احمر، یمن اور مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کے اثرات تینوں ممالک کے لیے مختلف سطحوں پر اہم ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کا بڑھنا جنوبی ایشیا، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک رابطہ تشکیل دے سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس تعاون کی اہمیت صرف دفاع تک محدود نہیں۔ اسلام آباد علاقائی امن، سفارتی اثر و رسوخ اور اپنے اہم خلیجی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے پاکستان اور ترکی جیسے شراکت داروں کے ساتھ دفاعی رابطے علاقائی سکیورٹی کے بدلتے ہوئے ماحول میں اضافی سفارتی اور دفاعی آپشنز فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ ترکی کے لیے یہ تعاون مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اس کے علاقائی روابط کو مزید مضبوط کرسکتا ہے۔

اگر تینوں ممالک مکہ معاہدے کو مستقل اور مؤثر ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ معاہدہ مستقبل میں مشترکہ سکیورٹی مشاورت کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

Source: Pakistan Foreign Office, Reuters, Dawn

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس