جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ، حکومت کو اسلام آباد مارچ دوبارہ شروع کرنے کی وارننگ

جماعتِ اسلامی کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ، حکومت کو اسلام آباد مارچ دوبارہ شروع کرنے کی وارننگ

VoS NEWS DESK | پاکستان کی معیشت | 11 اکتوبر 2026

جماعتِ اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی اور دیگر ٹیکسوں کا بوجھ براہِ راست عام شہریوں پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ذاتی سفر مہنگا ہوتا ہے بلکہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ایندھن پر عائد اضافی مالی بوجھ کم کیا جائے اور عوام کو ایسا ریلیف دیا جائے جو صرف عارضی امدادی پیکج تک محدود نہ ہو۔

یکم اکتوبر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا تھا کہ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے مؤثر قدم نہیں اٹھاتی تو جماعتِ اسلامی ملتان سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔ ان کے مطابق جماعت کی بنیادی ترجیح وزیراعظم سے ملاقات یا سیاسی رابطے نہیں بلکہ عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف دلانا ہے۔ پارٹی نے اس مہم کے سلسلے میں مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات اور دستخطی مہم جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

جماعتِ اسلامی نے اس سے قبل اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل کے بعد 22 ستمبر کو اسے عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ اس دوران حکومت اور جماعت کے نمائندوں کے درمیان پیٹرولیم لیوی اور بجلی کے شعبے سے متعلق امور پر بات چیت بھی ہوئی۔ تاہم جماعتِ اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات اور محدود ریلیف اسکیمیں اس کے بنیادی مطالبے، یعنی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، کا متبادل نہیں ہیں۔

حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے شہریوں کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے ایک امدادی پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی 6 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اس پروگرام سے نو ملین سے زائد افراد کو فائدہ پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس میں موٹر سائیکل سواروں، رکشہ چلانے والوں اور چھوٹی گاڑیوں کے بعض مالکان کے لیے مخصوص شرائط کے تحت مالی رعایت شامل ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طرح محدود وسائل کے باوجود ضرورت مند افراد کی مدد کی جا سکتی ہے۔

تاہم جماعتِ اسلامی اس حکومتی پالیسی سے مطمئن نہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مخصوص افراد کو عارضی سبسڈی دینے سے ایندھن پر مجموعی ٹیکسوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس کے مطابق پیٹرولیم لیوی ختم یا نمایاں طور پر کم کرنے سے عوام کو زیادہ وسیع اور دیرپا ریلیف مل سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی سرکاری آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے، اس لیے اسے ختم کرنے کا فیصلہ قومی مالیاتی ضروریات، بجٹ اہداف اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ معاشی پروگرام کے تناظر میں بھی دیکھا جائے گا۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ بسوں، ویگنوں اور دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع کے کرایوں میں اضافے کا دباؤ مسافروں پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ٹرکوں کے ذریعے اشیاء کی ترسیل مہنگی ہونے سے سبزیوں، پھلوں، آٹے اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے بجلی، نقل و حمل اور سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے سے منافع کم ہو سکتا ہے، جبکہ محدود آمدن والے خاندانوں کو اپنے ماہانہ بجٹ میں مزید کٹوتیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔

حکومت اور جماعتِ اسلامی کے درمیان اختلاف کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ عوام کو ریلیف کس طریقے سے دیا جائے۔ حکومت ہدفی امداد کے ذریعے مخصوص طبقوں کی مدد کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی ٹیکسوں اور لیوی میں بنیادی تبدیلی چاہتی ہے۔ اگر دونوں فریق کسی درمیانی راستے پر متفق نہ ہوئے تو ایندھن کی قیمتوں کا معاملہ مزید سیاسی احتجاج اور معاشی بحث کا سبب بن سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پیٹرولیم لیوی کا تنازع صرف پیٹرول کی قیمت کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مالیاتی نظام اور عام شہری کی قوتِ خرید سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ حکومت کو ایک طرف محصولات جمع کرنے، بجٹ خسارہ محدود رکھنے اور مالیاتی وعدے پورے کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف عوام مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات سے ریلیف چاہتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی پالیسی کا جائزہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ اس سے سرکاری آمدن، مہنگائی اور کم آمدنی والے خاندانوں پر کیا اثر پڑے گا۔

جماعتِ اسلامی کا مطالبہ حکومت پر عوامی دباؤ بڑھاتا ہے، لیکن لیوی ختم کرنے سے پیدا ہونے والی ممکنہ آمدنی کی کمی پوری کرنے کے لیے متبادل اقدامات بھی درکار ہوں گے۔ ان میں غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی، ٹیکس نظام میں بہتری، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور مالیاتی وسائل کی زیادہ مؤثر تقسیم شامل ہو سکتی ہے۔ اگر متبادل آمدن کا قابلِ عمل منصوبہ نہ ہو تو ٹیکس میں کمی کے باوجود دوسرے معاشی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

آنے والے دنوں میں اہم سوال یہ ہوگا کہ آیا حکومت اور جماعتِ اسلامی مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ قبول حل تک پہنچتے ہیں یا احتجاجی مہم دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے۔ عوام کے لیے سب سے زیادہ اہمیت ایسے فیصلے کی ہے جو ایندھن کے اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکے۔

Source: Pakistan Today — پیٹرولیم لیوی پر جماعتِ اسلامی کی اسلام آباد مارچ دوبارہ شروع کرنے کی وارننگ | Geo News — جماعتِ اسلامی نے حکومتی فیول ریلیف پیکج مسترد کر دیا | Associated Press — پاکستان میں کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ایندھن امدادی پروگرام

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس