ایندھن کی ترسیلی راہوں میں رکاوٹ، عالمی قیمتوں اور فریٹ اخراجات میں اضافے کا پاکستان پر دباؤ

ایندھن کی ترسیلی راہوں میں رکاوٹ، عالمی قیمتوں اور فریٹ اخراجات میں اضافے کا پاکستان پر دباؤ

VoS NEWS DESK | معیشت | 21 ستمبر 2026

پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں سمندری راستوں کو درپیش خطرات نے پاکستان کے لیے تیل کی درآمد اور ترسیل کے معاملات کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

The Express Tribune کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اور بحیرہ احمر کے راستے میں حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب سے تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت درآمد کنندہ ممالک کے لیے سپلائی کے متبادل راستے تلاش کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے تین تیل کارگو کا انتظام کیا گیا تھا، تاہم انہیں یمنی حوثیوں کی جانب سے روکا گیا۔ بعد میں پاکستانی حکام نے ایران سے مداخلت کی درخواست کی اور ان کارگو کو جاری کردیا گیا۔

موجودہ صورتحال میں حکومت تیل کی سپلائی کے لیے راستوں کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کررہی ہے۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ فریٹ اور انشورنس کے اخراجات بھی درآمدی لاگت پر اثرانداز ہورہے ہیں۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی عالمی منڈی کی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہیں۔ حالیہ سرکاری نظرثانی کے بعد 19 سے 21 ستمبر کے لیے پٹرول کی قیمت 389.14 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 424.04 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی۔

ایندھن کی قیمت میں تبدیلی کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل سمیت متعدد شعبوں کے اخراجات بھی توانائی کی قیمتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔

خصوصاً درآمدی ایندھن کی لاگت بڑھنے کی صورت میں مقامی کاروباروں کے لیے پیداواری اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ ہونے کا امکان رہتا ہے۔

پاکستانی معیشت کے لیے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو پہلے ہی توانائی کی قیمتوں، درآمدی ضروریات اور افراطِ زر سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے۔

اگست 2026 میں پاکستان کی مجموعی مہنگائی 11.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ اسٹیٹ بینک نے اس وقت پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔

ایندھن کی درآمدی لاگت میں اضافے کا اثر پاکستان کے بیرونی کھاتے پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ مہنگی توانائی کی درآمد کے لیے زیادہ زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے ہیں۔ حکومت نے موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے بعض صارفین کو خصوصی ریلیف اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والوں کو ہفتہ وار سبسڈی دی جائے گی۔

تاہم عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور سمندری راستوں کی صورتحال میں استحکام آنے تک پاکستان کے لیے درآمدی توانائی کی قیمتوں کا مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کے لیے موجودہ ایندھن بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عالمی قیمت کے ساتھ ساتھ سپلائی روٹس، فریٹ، انشورنس اور علاقائی سیکیورٹی بھی درآمدی لاگت کو متاثر کررہے ہیں۔

پاکستان کی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے تیل کی درآمدات اس لیے اہم ہیں کہ سمندری راستوں میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کا براہِ راست اثر سپلائی اور لاگت پر پڑ سکتا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور متبادل شپنگ روٹس کی دستیابی پاکستان کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔

ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل دباؤ کا اثر ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام صارفین کے اخراجات پر بھی پڑ سکتا ہے، اس لیے توانائی کی عالمی صورتحال پاکستان کی معاشی پالیسی اور مہنگائی کے لیے اہم رہے گی۔

ماخذ: The Express Tribune؛ Dawn؛ وزارتِ خزانہ/پاکستانی حکومت کے متعلقہ اعلانات۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس