VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 8 OCTOBER 2026
یہ کارروائی لاہور کے GCP سوسائٹی میں قائم ایک کمپنی کے دفتر پر کی گئی، جہاں حکام کے مطابق ایک مبینہ کال سینٹر کے ذریعے قرض ایپس سے متعلق سرگرمیاں چلائی جا رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران 39 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق چھاپے کے دوران 40 لیپ ٹاپس اور 41 موبائل فونز قبضے میں لیے گئے۔ حکام اب ان آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فرانزک تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کے دائرہ کار، رابطوں اور مالی معاملات کا پتا لگایا جا سکے۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق بعض مشتبہ قرض ایپس شہریوں سے حساس معلومات حاصل کرنے کے لیے ان کے موبائل فون کی گیلری اور کانٹیکٹ لسٹ تک رسائی حاصل کرتی تھیں۔ الزام ہے کہ اس معلومات کو بعد میں قرض لینے والوں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں دھمکانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
حکام نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ نیٹ ورک میں مصنوعی ذہانت (AI) کے مختلف ٹولز استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کے مطابق بعض متاثرین کی تصاویر میں مبینہ طور پر ردوبدل کرکے انہیں جعلی اور قابل اعتراض شکل میں تبدیل کیا جاتا، جس کے بعد انہیں بدنام کرنے یا دباؤ میں لانے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق جن مبینہ ایپس کا ذکر تحقیقات میں سامنے آیا ان میں Gurbat Fund، Jahez Fund، Cash Air، Credit Check اور Credit Support شامل ہیں۔ تاہم ان ایپس سے متعلق تمام الزامات ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور گرفتار افراد کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزم یا مشتبہ افراد ہی سمجھا جائے گا۔
قرض ایپس سے متعلق یہ معاملہ پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ اور سائبر بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ بہت سے شہری فوری مالی ضرورت کے باعث غیر معروف ایپس سے قرض لینے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے دوران وہ اپنے موبائل فون میں موجود ذاتی معلومات تک رسائی کی اجازت دے دیتے ہیں۔
ایک مرتبہ حساس ڈیٹا کسی غیر قانونی نیٹ ورک کے ہاتھ لگ جائے تو متاثرہ شخص کو فون کالز، پیغامات، جعلی تصاویر یا اس کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطے کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر سیکیورٹی ماہرین صارفین کو غیر معروف مالیاتی ایپس انسٹال کرتے وقت انتہائی احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں۔
NCCIA کی جانب سے جاری تحقیقات کا ایک اہم پہلو مبینہ نیٹ ورک کے ممکنہ بیرونی روابط کا جائزہ بھی ہے۔ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ سرگرمیاں صرف لاہور تک محدود تھیں یا اس نیٹ ورک کے دیگر شہروں اور بیرون ملک موجود عناصر سے بھی روابط تھے۔
یہ کارروائی پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے AI-enabled cybercrime کے خلاف بڑھتی ہوئی توجہ کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت جہاں تعلیم، کاروبار اور تحقیق میں مفید ثابت ہو رہی ہے، وہیں اس کے غلط استعمال سے جعلی تصاویر، شناختی فراڈ اور آن لائن بلیک میلنگ جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
لاہور کا یہ معاملہ اس بات کی اہم یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل قرض اور سائبر کرائم اب صرف مالی فراڈ تک محدود نہیں رہے۔ ذاتی تصاویر، کانٹیکٹس اور دیگر حساس معلومات کا غلط استعمال متاثرین کے لیے سنگین سماجی اور ذہنی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے صارفین کو غیر معروف قرض ایپس سے محتاط رہنے، غیر ضروری permissions نہ دینے اور مشکوک بلیک میلنگ کی صورت میں خود رقم ادا کرنے کے بجائے متعلقہ سائبر کرائم اداروں سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب گرفتار افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حقیقت عدالت اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی طے ہوگی۔
Source: Dawn | NCCIA | ProPakistani | Daily Pakistan
