VoS NEWS DESK | AVIATION & ECONOMY | 10 OCTOBER 2026
پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے نے بین الاقوامی فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بیڑے میں جدید طیارے شامل کرنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔ پی آئی اے اور نورس اٹلانٹک ایئرویز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیارے حاصل کیے جائیں گے۔ یہ طیارے طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان کی شمولیت سے قومی ایئرلائن کی بین الاقوامی پروازوں کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ طیارے نومبر 2026 میں پی آئی اے کے آپریشنز کا حصہ بننے کی توقع ہے۔ ابتدائی طور پر ان کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان طویل فاصلے کی براہِ راست پروازوں کو سہولت فراہم کی جائے گی۔ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں بہتری مسافروں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص ایسے مسافروں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے جو خاندانی ملاقاتوں، تعلیم، کاروبار یا دیگر ضروریات کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفر کرتے ہیں۔
پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات کے مطابق، برطانیہ قومی ایئرلائن کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔ نئے طیاروں کے ذریعے ایئرلائن کو اپنی دستیاب گنجائش بڑھانے، مسافروں کو زیادہ انتخاب فراہم کرنے اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طیاروں کی آمد کے بعد اصل فائدہ ان کے مؤثر استعمال، پروازوں کے شیڈول اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات پر منحصر ہوگا۔
اس معاہدے میں طیاروں کے ساتھ عملے، دیکھ بھال اور انشورنس کے انتظامات بھی شامل ہیں۔ اس نوعیت کے معاہدے کو عموماً ACMI کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ طیارے کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس طریقے سے ایئرلائن کو ہر انتظام الگ سے کرنے کے بجائے نسبتاً منظم انداز میں اضافی فضائی گنجائش حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
نورس اٹلانٹک ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو ایونڈ روالڈ نے بھی اس شراکت داری کو اپنی کمپنی کے طیاروں کو نئے آپریشنز میں استعمال کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔ اس تعاون سے دونوں کمپنیوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے: پی آئی اے کو طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے اضافی گنجائش مل سکتی ہے، جبکہ نورس اٹلانٹک اپنے دستیاب طیاروں کو نئے کاروباری مواقع کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
پی آئی اے کے لیے یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی ایئرلائن کو بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے، مسافروں کا اعتماد بحال کرنے اور اپنے روٹ نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید طیاروں کی شمولیت ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ بروقت پروازیں، مسافروں کی سہولت، خدمات کا معیار اور آپریشنل نظم و ضبط برقرار رکھنا بھی ضروری ہوگا۔
تفصیلی رپورٹ:
VoS STRATEGIC INSIGHT
پی آئی اے کے لیے دو بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر طیاروں کا حصول محض بیڑے میں اضافے کا معاملہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا ایک موقع بھی ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہِ راست پروازوں کی گنجائش بڑھنے سے مسافروں کو سہولت مل سکتی ہے اور قومی ایئرلائن کے لیے آمدنی کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم، طویل مدتی کامیابی کا انحصار صرف جدید طیاروں پر نہیں ہوگا۔ پی آئی اے کو اپنے آپریشنز کو مؤثر بنانا، مسافروں کے تجربے کو بہتر کرنا اور تجارتی بنیادوں پر پائیدار کارکردگی دکھانا ہوگی۔ اگر نئی گنجائش کو مناسب روٹس، مستحکم شیڈول اور بہتر خدمات کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ معاہدہ ایئرلائن کی بحالی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
Source: Dawn | Associated Press of Pakistan
