عاشورہ محرم الحرام 2026: حکومتِ پاکستان اور حکومتِ سندھ کا 25 اور 26 جون کو ملک بھر میں عام تعطیل کا باضابطہ اعلان

 وفاقی حکومتِ پاکستان اور حکومتِ سندھ نے یومِ عاشورہ کے انتہائی مقدس اور تاریخی موقع پر ملک بھر میں دو روزہ عام تعطیل کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، وزیر اعظم شہباز شریف نے 9 اور 10 محرم الحرام 1448 ہجری کی مناسبت سے جمعرات 25 جون اور جمعہ 26 جون 2026 کو ملک بھر میں عام تعطیل کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ کابینہ سیکرٹریٹ کے مطابق، یہ دو روزہ قانونی تعطیل ان تمام وفاقی وزارتوں، ماتحت محکموں اور انتظامی اداروں میں مشاہدہ کی جائے گی جو پانچ روزہ یا چھ روزہ ورکنگ ویک کے فارمیٹ پر کام کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس باضابطہ اقدام کا مقصد تمام شہریوں، بالخصوص سرکاری ملازمین اور طلبہ کو محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں، مجالسِ عزاء اور دیگر مذہبی رسومات میں مکمل سہولت کے ساتھ شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس وفاقى فیصلے کے فوراً بعد، حکومتِ سندھ کے محکمہ اطلاعات نے بھی صوبائی سطح پر ایک علیحدہ ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹری کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اس حکم نامے کے مطابق، صوبہ سندھ کے تمام اضلاع بشمول کراچی اور حیدرآباد میں 25 اور 26 جون کو تمام صوبائی دفاتر، خودمختار کارپوریشنز، سیمی آٹونومس باڈیز اور لوکل کونسلز مکمل طور پر بند رہیں گی۔ تعلیمی اداروں بشمول تمام سرکاری و نجی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی عمل معطل رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے بھی ملکی بینکاری کے شعبے کے لیے ایک خصوصی سرکلر جاری کیا ہے۔ مرکزی بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق، عاشورہ محرم کے احترام اور حکومتی احکامات کی تعمیل میں تمام تجارتی بینک، مائیکرو فنانس بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے ان دو دنوں میں عوامی لین دین کے لیے بند رہیں گے۔ تمام شیڈولڈ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تعطیلات کے دوران ملک بھر میں اے ٹی ایم (ATM) سروسز اور آن لائن موبائل بینکنگ پورٹلز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھیں تاکہ صارفین کو نقد رقم کی منتقلی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مذکورہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ عام تعطیلات ان تمام محکموں پر لاگو نہیں ہوں گی جو بنیادی اور ہنگامی عوامی خدمات فراہم کرنے پر مامور ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، وفاقی و صوبائی پولیس فورسز، ریسکیو سروسز، سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، اور میونسپل کارپوریشنز کی واٹر اینڈ پاور مینٹیننس ٹیمیں ان تعطیلات کے دوران بھی ہائی الرٹ پر رہیں گی تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ صوبے بھر میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کے روٹس پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیں۔ کے الیکٹرک (K-Electric)، حیسکو (HESCO) اور سیپکو (SEPCO) کو خصوصی طور پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ ان ایام میں جلوس کے راستوں پر بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنائیں اور لوڈ شیڈنگ سے مکمل اجتناب کریں۔ حیدرآباد اور کراچی کے تمام حساس مقامات پر سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے ذریعے جلوسوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال قابو میں رہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس