VoS NEWS DESK | ECONOMY | 25 ستمبر 2026
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ تازہ نرخوں کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) کے لیے آر ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ قیمتوں میں یہ تبدیلی عالمی ایل این جی مارکیٹ، درآمدی کارگو کی لاگت اور پاکستان میں گیس کی مجموعی طلب و رسد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر سے آنے والے نسبتاً سستے ایل این جی کارگو نے درآمدی گیس کی مجموعی لاگت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی گیس کے ساتھ ساتھ درآمدی ایل این جی پر بھی انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں تبدیلی براہ راست ملک کے توانائی کے شعبے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
آر ایل این جی بنیادی طور پر صنعتوں، بجلی گھروں، سی این جی اور دیگر اہم شعبوں میں استعمال ہوتی ہے۔ قیمت میں کمی سے ان شعبوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے جو درآمدی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق ایل این جی کی قیمت میں کمی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے کئی پاور پلانٹس گیس یا آر ایل این جی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم بجلی کے صارفین کے بلوں پر حتمی اثر کا انحصار دیگر عوامل، بشمول بجلی کی مجموعی پیداوار، ٹیرف اور دیگر سرچارجز پر بھی ہوگا۔
صنعتی شعبہ بھی آر ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کو اہم پیش رفت سمجھتا ہے۔ ٹیکسٹائل، فرٹیلائزر، سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر صنعتیں توانائی کو اپنی پیداواری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ گیس کی لاگت میں کمی سے بعض کاروباری اداروں کے پیداواری اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے توانائی کے شعبے میں درآمدی ایندھن کی قیمتوں اور زرمبادلہ کے دباؤ کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایل این جی کی درآمد پر ہونے والے اخراجات ملک کے مجموعی توانائی درآمدی بل کا اہم حصہ ہیں، اس لیے عالمی قیمتوں میں کمی پاکستان کے لیے مالی طور پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔
قطر پاکستان کے اہم ایل این جی سپلائرز میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی ایل این جی معاہدے بھی موجود ہیں۔ قطر سے آنے والے کارگو کی قیمت اور عالمی اسپاٹ مارکیٹ کے نرخ پاکستان کے لیے درآمدی گیس کی مجموعی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نرخوں میں کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت توانائی کے شعبے میں اخراجات کم کرنے اور معیشت پر موجود دباؤ کو محدود کرنے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ سستی درآمدی گیس سے صنعتی سرگرمیوں کو سہارا دینے اور توانائی کے اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق عالمی توانائی کی قیمتیں مستقل نہیں رہتیں۔ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی صورتحال، شپنگ اخراجات اور سپلائی میں تبدیلی کے باعث مستقبل میں ایل این جی کی قیمتیں دوبارہ بڑھ بھی سکتی ہیں۔
حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ درآمدی گیس کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ توانائی کے پورے نظام میں کس حد تک منتقل ہوتا ہے۔ آر ایل این جی کی قیمت کم ہونے کے باوجود دیگر ٹیکسز، چارجز اور بجلی و گیس کے ٹیرف صارفین کے حتمی اخراجات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
آر ایل این جی کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ قطر سے کم قیمت والے ایل این جی کارگو کی آمد سے درآمدی گیس کی لاگت کم ہوئی ہے، جبکہ صنعت اور بجلی کے شعبے کو بھی اس کمی سے فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم طویل مدتی فائدہ عالمی توانائی کی قیمتوں اور پاکستان کی درآمدی ضروریات پر منحصر رہے گا۔
Source: OGRA؛ Dawn؛ The News.
