پاکستان
مرکزی صفحہ پر واپس
پاکستان اور 13 دیگر ممالک نے سومالی لینڈ کی یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کی منصوبہ بندی کی مذمت کی
پاکستان اور 13 دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے سومالی لینڈ کی یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کی منصوبہ بندی کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور فلسطین کے حق میں ایک بڑا ضربہ ہے۔ پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ اقدام "غیر قانونی، ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے۔ سومالی لینڈ، جو ایک خود مختار علاقہ ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے، نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اقدام خطے میں بہت زیادہ تنازعہ پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ فلسطینی عوام کے حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ مسئلہ خطے میں سیاسی کشیدگی کو بڑھا رہا ہے۔ سعودی عرب، مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک نے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس اقدام کے خلاف اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ سومالی لینڈ کے اس فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم ہو سکیں۔ تاہم، یہ اقدام مسلم دنیا میں بہت منفی ردعمل پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں اقوام متحدہ میں اپنا موقف پیش کرے گا۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
