دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
مرکزِ بائیں بازو کی تحریک کا احیا: بارسلونا میں عالمی رہنماؤں کا اہم اجتماع
بارسلونا میں گزشتہ ماہ منعقدہ 'گلوبل پروگریسو کانفرنس' کے اثرات عالمی سیاست پر نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں سپین کے وزیراعظم اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے مرکزِ بائیں بازو (Centre-Left) کے نظریات کو نئے سرے سے متعارف کرایا۔ اس تحریک کا مقصد عالمگیریت (Globalisation) کی ناکامیوں کا ازالہ کرنا اور مزدور طبقے کے لیے سماجی برابری کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تحریک دراصل دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور دائیں بازو کی سیاست کے خلاف ایک مضبوط جوابی بیانیہ تشکیل دے رہی ہے۔
اس نئی بین الاقوامی پروگریسو تحریک کا آغاز اس حقیقت کے اعتراف سے ہوا ہے کہ اگرچہ عالمگیریت نے معاشی ترقی تو دی، لیکن وہ دولت کی منصفانہ تقسیم میں ناکام رہی ہے۔ بارسلونا اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل کے بین الاقوامی نظم و نسق کو قوانین کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہونا چاہیے۔ عالمی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اتحاد آنے والے برسوں میں دنیا کی بڑی معاشی اور سیاسی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، جس کی قیادت اب سپین اور لاطینی امریکہ کے ممالک کر رہے ہیں۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
